آپ کی کہانی یہاں لکھیں
عائشہ کی آنکھیں ہمیشہ خاموش رہتی تھیں، مگر ان کی خاموشی میں ایک شور چھپا ہوتا تھا۔ وہ شور جو کسی کو سنائی نہیں دیتا، صرف محسوس کیا جاتا ہے۔ وہ روز صبح وقت پر جاگتی، ماں کے لیے چائے بناتی اور پھر کالج چلی جاتی، مگر اس کے چہرے پر مسکراہٹ صرف ایک عادت تھی، خوشی نہیں۔ اس کے والد پانچ سال پہلے ایک حادثے میں دنیا چھوڑ گئے تھے۔ اس دن کے بعد گھر کی فضا بدل گئی تھی۔ ماں کی آنکھوں میں مستقل تھکن اور عائشہ کے دل میں مستقل خوف بس گیا تھا۔ وہ خوف کہ کہیں وہ بھی کمزور نہ پڑ جائے، کہیں ماں کو اکیلا نہ چھوڑ دے۔ کالج میں سب اسے ایک مضبوط لڑکی سمجھتے تھے، مگر کوئی یہ نہیں جانتا تھا کہ وہ ہر رات خاموشی سے روتی ہے۔ اس کا سب سے قریبی دوست، علی، اکثر اس سے کہتا: “تم اتنی خاموش کیوں رہتی ہو؟” عائشہ مسکرا کر جواب دیتی: “بس عادت ہے۔” مگر حقیقت یہ تھی کہ کچھ درد لفظوں میں بیان نہیں ہوتے۔ ایک دن علی نے اسے ایک خط دیا۔ اس خط میں اس نے اپنے دل کی بات لکھی تھی، اپنی محبت کا اظہار کیا تھا۔ عائشہ نے خط پڑھا، آنکھیں نم ہو گئیں، مگر اس نے خط واپس کر دیا۔ “میں کسی کو اپنے درد میں شریک نہیں کر سکتی،” اس نے آہستہ سے کہا۔ وقت گزرتا گیا۔ علی شہر چھوڑ گیا، ماں کی بیماری بڑھتی گئی، اور عائشہ کی ذمہ داریاں بھی۔ ایک دن ماں بھی خاموشی سے اس دنیا سے چلی گئی۔ اس دن عائشہ واقعی اکیلی ہو گئی ۔ اب وہ اسی گھر میں رہتی ہے، انہی دیواروں کے درمیان، جہاں یادیں بولتی ہیں اور وہ خاموش سنتی رہتی ہے۔ اس کی آنکھیں آج بھی خاموش ہیں، مگر ان میں اب آنسو نہیں، صرف خالی پن ہے۔ کچھ لوگ روتے ہیں تو نظر آ جاتے ہیں، اور کچھ لوگ مسکراتے ہیں تو اندر ہی اندر ٹوٹ جاتے ہیں۔
Comments
Post a Comment